تعلیم القرآن (قسط:1) 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مختصرا تمہید حاضر ہے۔ 

قرآن عظیم الشان اللہ رب العزت کا کلام، اللہ رب العزت کا پیغام انسانیت کے نام، قرآن دستور حیات ہے، منشور حیات ہے، ضابطہ حیات ہے بلکہ انسانیت کے لیے آبِ حیات ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلاوت، اس کے معانی کا علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کے جو فضائل بیان فرمائے اور امت کو جس طرح اس کی ترغیب دی اس کی صرف ایک مثال حاضر ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

((أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِل)) [مسلم شریف، حدیث:803]

’’کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔‘‘

قرآن کے معانی ومطالب کا تو کہنا ہی کیا ہے، اس امت نے کتابِ الٰہی کے الفاظ، اس کے حروف، اس کی حرکات وسکنات اور اس کے حروف کو زبان سے ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی غرض سے ایسے ایسے علوم وفنون کی بنیاد ڈالی ہے کہ جن کی نظیر دنیا کے کسی مذہب اور زبان میں نہیں ملتی۔

بہر حال ہم یہاں قرآن کے معانی اور مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن کریم چونکہ سرورِ کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے، اس لیے سب سے پہلے وحی کے بارے میں چند باتیں جان لینی ضروری ہیں:

وحی کی ضرورت:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تین چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جن کے ذریعے اسے علم حاصل ہوتا ہے۔

(1)… حواس خمسہ، دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا چھونا، (2)…عقل، (3)…وحی۔

ان کے ذریعے سے انسان کو کسی چیز کا علم حاصل ہوتا ہے، لیکن ان میں سے پہلے دو ذریعے ناقص ہیں، جبکہ وحی کامل ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ انسان کو محسوس کچھ ہوتا ہے، لیکن وہ ہوتا کچھ اور ہے۔ مثلا: گاڑی چل رہی ہو تو لگتا ہے کہ درخت بھاگ رہے ہیں جبکہ گاڑی بھاگ رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح عقل بھی دھوکہ کھا جاتی ہے۔ سائنس دانوں کے بہت سے نظریات ایسے ہیں جن کو بعد کے وقت نے غلط ثابت کردیا۔ وغیرہ

وحی کا علم حقیقی مستحکم اور قطعی ہوتا ہے اس میں کبھی تزلزل نہیں آسکتا۔  (جاری ہے…)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تلاشِ منزل