تعلیم القرآن (قسط:2)
علم کے ذرائع کی ترتیب:
علم کے ان تینوں ذرائع (حواسِ خمسہ، عقل اور وحی) میں ترتیب کچھ ایسی ہے کہ ہر ایک کی ایک خاص حد اور مخصوص دائرہ کار ہے، جس کے آگے وہ کام نہیں دیتا، چنانچہ جو چیزیں انسان کو اپنے حواس سے معلوم ہوجاتی ہیں، ان کا علم نری عقل سے نہیں ہوسکتا، مثلا اس وقت میرے سامنے ایک انسان بیٹھا ہے، مجھے اپنی آنکھ کے ذریعے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انسان ہے، آنکھ ہی نے مجھے یہ بھی بتا دیا کہ اس کا رنگ گورا ہے، اس کی پیشانی چوڑی ہے، بال سیاہ ہیں، وغیرہ، لیکن اگر یہی باتیں میں اپنے حواس کو معطل کرکے محض عقل سے معلوم کرنا چاہوں، مثلا آنکھیں بند کرکے یہ چاہوں کہ اس انسان کی رنگت، اس کے اعضاء کی صحیح صحیح بناوٹ اور اس کے سراپا کی ٹھیک ٹھیک تصویر مجھے صرف اپنی عقل سے معلوم ہوجائے تو یہ ناممکن ہے۔
اسی طرح جن چیزوں کا علم عقل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے وہ صرف حواس سے معلوم نہیں ہوسکتیں، مثلا: اسی شخص کے بارے میں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی ماں ضرور ہے، نیز یہ بھی علم ہے کہ اسے کسی نے پیدا کیا ہے، اگرچہ نہ اس کی ماں اس وقت میرے سامنے ہے، نہ ہی میں اس کے پیدا کرنے والے کو دیکھ سکتا ہوں، لیکن میری عقل بتا رہی ہے کہ یہ شخص خود بخود پیدا نہیں ہوسکتا، اب اگر میں یہ علم اپنی عقل کے بجائے اپنی آنکھ سے حاصل کرنا چاہوں تو یہ ممکن نہیں، کیونکہ اس کی تخلیق اور پیدائش کا منظر اب میری آنکھوں کے سامنے نہیں آسکتا۔
الغرض! جہاں تک حواسِ خمسہ کا تعلق ہے وہاں تک عقل کوئی رہنمائی نہیں کرتی اور جہاں حواسِ خمسہ جواب دے دیتے ہیں وہیں سے عقل کا کام شروع ہوتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حد پر جاکر رک جاتی ہے۔ اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا علم نہ حواس کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے اور نہ عقل کے ذریعے۔ مثلا: اسی شخص کے بارے میں عقل نے یہ تو بتا دیا کہ اسے کسی نے پیدا کیا ہے، لیکن اس شخص کو کیوں پیدا کیا گیا ہے، اس کے ذمہ خدا کی طرف سے کیا فرائض ہیں، اس کا کونسا کام اللہ کو پسند ہے اور کونسا پسند نہیں ہے ان کا جواب حواس اور عقل مل کر بھی نہیں سے سکتے، ان سوالات کا جواب دینے کے لیے جو ذریعہ اللہ نے مقرر فرمایا اسی کا نام وحی ہے۔
معلوم ہوا کہ وحی انسان کے لیے وہ اعلیٰ ترین ذریعۂ علم ہے جو اسے اس کی زندگی کے متعلق ان سوالات کا جواب مہیا کرتا ہے جو اس کے لیے ضروری ہے۔ (جاری ہے…)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں