تعلیم القرآن (قسط:2) علم کے ذرائع کی ترتیب: علم کے ان تینوں ذرائع (حواسِ خمسہ، عقل اور وحی) میں ترتیب کچھ ایسی ہے کہ ہر ایک کی ایک خاص حد اور مخصوص دائرہ کار ہے، جس کے آگے وہ کام نہیں دیتا، چنانچہ جو چیزیں انسان کو اپنے حواس سے معلوم ہوجاتی ہیں، ان کا علم نری عقل سے نہیں ہوسکتا، مثلا اس وقت میرے سامنے ایک انسان بیٹھا ہے، مجھے اپنی آنکھ کے ذریعے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انسان ہے، آنکھ ہی نے مجھے یہ بھی بتا دیا کہ اس کا رنگ گورا ہے، اس کی پیشانی چوڑی ہے، بال سیاہ ہیں، وغیرہ، لیکن اگر یہی باتیں میں اپنے حواس کو معطل کرکے محض عقل سے معلوم کرنا چاہوں، مثلا آنکھیں بند کرکے یہ چاہوں کہ اس انسان کی رنگت، اس کے اعضاء کی صحیح صحیح بناوٹ اور اس کے سراپا کی ٹھیک ٹھیک تصویر مجھے صرف اپنی عقل سے معلوم ہوجائے تو یہ ناممکن ہے۔ اسی طرح جن چیزوں کا علم عقل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے وہ صرف حواس سے معلوم نہیں ہوسکتیں، مثلا: اسی شخص کے بارے میں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی ماں ضرور ہے، نیز یہ بھی علم ہے کہ اسے کسی نے پیدا کیا ہے، اگرچہ نہ اس کی ماں اس وقت میرے سامنے ہے، نہ ہی میں اس ک...
اشاعتیں
فروری, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تعلیم القرآن (قسط:1) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مختصرا تمہید حاضر ہے۔ قرآن عظیم الشان اللہ رب العزت کا کلام، اللہ رب العزت کا پیغام انسانیت کے نام، قرآن دستور حیات ہے، منشور حیات ہے، ضابطہ حیات ہے بلکہ انسانیت کے لیے آبِ حیات ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلاوت، اس کے معانی کا علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کے جو فضائل بیان فرمائے اور امت کو جس طرح اس کی ترغیب دی اس کی صرف ایک مثال حاضر ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِل)) [مسل...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
خدائی مسکراہٹیں اللہ رب العزت اپنی ذات و صفات میں لازوال، تغیر و تبدل سے پاک، ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ ہی رہنے والے بے مثل و بے مثال ہیں۔نہ اللہ رب العالمین کی ذات میں (مخلوق کی طرح) کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی صفات میں۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے لیے احادیث میں مختلف الفاظ استعمال ہوے ہیں مثلاً اللہ مسکرائے تو علماء فرماتے ہیں کہ ان جیسے الفاظ سے مراد ان کے معنیٰ کا لازم ہوتا ہے نہ کہ خود معنیٰ مثلاً مسکرانے کا لازم ہے راضی ہونا تو جہاں بھی احادیث میں اللہ مسکرانے کا ذکر ہے تو مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی ہوے ہیں یہ مراد نہیں کہ انسانوں کی طرح مسکراتے ہیں۔ چنانچہ بعض احادیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے ضحک کے الفاظ بھی استعمال ہوے ہیں مثلاً: (۱)… ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوں گے تو ایک آدمی ایسا باقی رہے گا جس کا رُخ دُوزخ کی طرف ہوگا، یہ شخص دُوزخیوں میں سے جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہوگا، وہ عرض کرے گا اے رب! میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دیجیے، اس کی ہوا نے مجھے پریشان کر دیا اور اس کی گرمائش نے مجھے جلا ڈالا...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
نبی معظمﷺ کے خوب صُورت ترین تبسم اللہ رب العزت نے حضرت انسان میں چند کیفیات رکھی ہیں جو کہ حالات کے بدلنے سے بدلتی رہتی ہیں مثلًا رحم، غصہ، ہنسنا، رونا، خوشی، غمی وغیرہ، حد کے اندر رہتے ہوئے یہ تمام کیفیات انسان کی خوبیوں میں شمار ہوتی ہیں خدود شرعیہ سے تجاوز کے بعد یہ خامیاں بن جاتی ہیں۔ نبیb بھی چونکہ انسان بلکہ اکمل الانسان تھے لہٰذا آپﷺ کے اندر بھی اس قسم کی کیفیات پائی جاتی تھیں، مگر خوبی کی حد تک، حضرت عائشہ صدیقہk فرماتی ہیں: ((کَانَ ضَحَّاکًا بَسَّامًا)) [مکارم الاخلاق للخرائطی] ’’نبیb زیادہ مسکرانے والے تھے۔‘‘ یعنی جب ضرورت ہوتی تو آپﷺ مسکرایا بھی کرتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ اس کی کھلے دل سے گواہی دیتی ہیں مثلًا: (۱)… حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کہتی ہیں: میں نے حضرت عائشہk سے نبی اکرمﷺ کی گھر میں تشریف آوری کی کیفیت پوچھی تو فرمانے لگیں: آقاﷺ جب بھی گھر میں ازواج مطہرات کے ہاں تشریف لاتے تو آپﷺ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔ [ایضا] (۲)… ایک مرتبہ مدینہ میں قحط پڑا ایک صحابی نے بارش کے لیے دعا کی درخواست کی کہ اب جانور بھی مر رہے ہیں۔ آپﷺ نے دعا فرمادی اور ایک ہفتہ تک بارش ...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
الٰہی محبوب کل جہاں کو دل وجگر کا سلام پہنچے دنیا میں بہت سارے لوگوں سے محبت کی گئی ان کو چاہا گیا، عشق کیا گیا، لیکن محدود۔ ایک جگہ سے محبت ملتی ہے تو دوسری جگہ نفرت کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے مگر ایک ہستی جہان میں ایسی آئی ہے جسے لامحدود چاہا گیا ہے۔اللہ رب العزت نے انہیں محبوب کل جہاں بنایا ہے۔ یقیناً یہ وہی ہستی ہے جو لا محدود کمالات کی حامل ہے۔ جس سے اپنوں نے محبت کی تو بے گانے بھی اس سے خالی نظر نہیں آتے جانوروں نے محبت کی، پتھروں نے محبت کی، پہاڑوں نے محبت کی، درختوں نے محبت کی خشک لکڑی نے محبت کی، درندوں نے محبت کی، راہبوں نے محبت کی، دنیا داروں نے محبت کی، اولیاء نے کی انبیاء نے کی، حتیٰ کہ خود رب العُلیٰ نے محبت کی۔ کون ہے جو اس محبت سے خالی رہا ہو؟ اگر کافر مخالفت بھی کرتے تھے تو صرف اپنی انا کے پیش نظر ورنہ وہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ محبت کے لائق ہیں تو یہی ہیں۔ کبھی تو وہ خود اعلان فرما رہے ہیں: ((أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ)) [صحيح البخاري:بَابُ خَرْصِ التَّمْرِ] ’’احد پہاڑ ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ کبھی گوہ آپ سے محبت کا اظہار ان الفاظ...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
قید خانہ یا جنت…؟ عمر بن عبد العزیز وہ پاگل نہیں تھا، مگر ہر بندہ اسے پاگل ہی سمجھ رہا تھا کیونکہ اس نے بات ہی کچھ ایسی کہی تھی کہ سب کو حیران کردیا تھا۔ مجمع دیکھ کر وہ بھی قریب ہوا اور پاس ہی کھڑے ہوئے کسی بندے سے پوچھنے لگا کہ مسئلہ کیا ہے لوگ یہاں کیوں جمع ہیں اور کیا کررہے ہیں اس سوال کا جواب اسے یہ دیا گیا کہ یہ لوگ اس لیے جمع ہیں کہ اس ملک کا بادشاہ کسی کو بنانا چاہتے ہیں اور کوئی بندہ اس کے لیے تیار ہی نہیں ہورہا وہ کہنے لگا: عجیب بات ہے بادشاہ بننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہورہامیں بادشاہ بننے کے لیے تیار ہوں مجھے بنادو وہ کہنے لگا: سوچ کر بات کرو بعد میں پچھتائو گے اس نے کہا اس میں بچھتانے کی کیا بات ہے میں بادشاہ بننے کےلیے تیار ہوں مجھے بنادو۔ اجنبی کی یہ بات سن کر سب لوگ اسے گھورنے لگے کہ یہ کیسا بندہ ہے جو بادشاہ بننے کے لیے تیار ہے انہیں اس کے دماغی توازن پر شک ہونے لگا … قارئین! آپ بھی حیران ہوں گے کہ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے ہر بندہ چاہتا ہے کہ میں بادشاہ بنوں لہٰذا اس کی یہ بات اتنی تعجب خیز تو نہیں تھی ہاں یہ بات انوکھی ہے کہ کوئی بندہ بھی بادشاہ بننے کےلی...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
مگر تیری رحمت نے گوارا نہ کیا محم عمر بن عبد العزیز دنیا کے اندر اچھا ئی بھی پائی جاتی ہے اور برائی بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تضاد شروع سے ہی جاری ہے۔ کسی مخلوق میں اچھائی کو رکھ دیا گیا اور کسی مخلوق میں برائی کو رکھ دیا گیا۔ مثلا فرشتے ہیں کہ ان میں اچھائی ہی اچھائی ہے، برائی اور نافرمائی کا شائبہ تک نہیں ہے۔ جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اور کسی مخلوق کے اندر برائی ہی برائی ہے اچھائی نظر ہی نہیں آتی۔ مثلا: ابلیس ہے کہ اس کے اندر اچھائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ انہیں بھٹکا کربہت دور لے جائے۔ یعنی اس کے اندر اچھائی ہے ہی نہیں۔ جبکہ انسان کے اندر اللہ رب العزت نے دونوں صفات رکھی ہیں، اچھائی بھی ہے، برائی بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی محنت سے اپنے اندر اچھائی کو غالب کرلیتا ہے اور کوئی غفلت اور لاپرواہی سے برائیوں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ اب جو بندہ اچھائیوں اور خوبیوں والا ہے، اسے تو ہر ایک پسند کرتا ہے، پھر اللہ رب العزت تو بطریق اولیٰ اس کو پسند فرماتے ہیں۔ حتی کہ جو زیادہ اچھ...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
کاش ایسا ہوجائے۔ محمد عمر بن عبد العزیز وہ نہیں جانتا تھا کہ وہاں کیسے جاتے ہیں، بس وہ وہاں جانا چاہتا تھا۔ وہ دیوانہ وار لوگوں سے پوچھتا رہتا تھا کہ لوگ وہاں کیسے جاتے ہیں؟ تولوگ مختلف جواب دے کر اسے ٹال دیتے تھے ایک مرتبہ اسے کسی نے بتا ہی دیا کہ یہاں سے ریل پر سوار ہوکر کراچی جاتے ہیں، وہاں سے جہاز پر سوار ہوکر جانا پڑتا ہے۔ وہ لاہور کا رہنے والا ایک گوالا تھا غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا آمدنی اتنی تھی نہیں جس سے وہ یہ سفر کرسکتا لیکن اسے بس ایک ہی دھن لگی رہتی تھی اور ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ چنانچہ کسی نہ کسی طرح وہ کراچی پہنچ گیا اب یہاں سے آگے جانے کا مسئلہ تھا وہ پریشان تھا کہ آگے کیسے جاسکتا ہوں؟ اس نے دیکھا کہ بعض لوگ مخصوص لباس پہن کر جہاز میں سامان لاد رہے ہیں تو اس نے ان میں سے ایک کی منت کی کہ میں وہاں جانا چاہتا ہوں آپ مہربانی کریں اپنی جگہ مجھے کام کرنے دیں اور اپنی وردی مجھے دے دیں میں یہ وردی آپ کو واپس کردوں گا وہ بندہ مان گیا اور اپنا لباس اسے دے دیا اب وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح سامان اٹھا اٹھا کر جہاز میں لادنے لگااس نے کچھ سامان جہاز میں...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تشنگانِ علم کے نام محمد عمر بن عبد العزیز تلاش اور جستجو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر ودیعت رکھی ہے۔ وہ بوڑھا ہو یا جوان، شہری ہو یا دیہاتی، عربی ہو یا عجمی، مسلمان ہو یا کافر، حتی کہ انتہائی چھوٹا بچہ بھی اس صفت سے متصف نظر آتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انسان بچپن سے لے کر جوانی اور پھر بڑھاپے تک اسی تگ و دو میں رہتا ہے کہ نئی سے نئی چیز حاصل کروں۔ استاذِ محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرمایا کرتے ہیں: لوگ صبح صبح ٹی وی آن کر لیتے ہیں، اخبار پڑھتے ہیں کہ معلوم ہو کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہی جستجو ہے جو انسان کو چین نہیں لینے دیتی۔ ہر وقت انسان اسی تلاش میں ہوتا ہے کہ کوئی نئی خبر نئی بات مجھے مل جائے۔ چھوٹے بچوں کو دیکھتے ہیں کہ کوئی کھلونا جب ان کے ہاتھ میں آتا ہے تو کچھ ہی دیر کے بعد وہ کھلونا دو، چار حصوں میں تبدیل ہو چکا ہو تا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہمارے حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت فیوضہم فرماتے ہیں: چونکہ بچہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ اس کے اندر کیا کیا چیز ہے۔ گویا! اس بچے کی ج...