تلاوت کلام پاک سے آغاز
کاش ایسا ہوجائے۔ محمد عمر بن عبد العزیز وہ نہیں جانتا تھا کہ وہاں کیسے جاتے ہیں، بس وہ وہاں جانا چاہتا تھا۔ وہ دیوانہ وار لوگوں سے پوچھتا رہتا تھا کہ لوگ وہاں کیسے جاتے ہیں؟ تولوگ مختلف جواب دے کر اسے ٹال دیتے تھے ایک مرتبہ اسے کسی نے بتا ہی دیا کہ یہاں سے ریل پر سوار ہوکر کراچی جاتے ہیں، وہاں سے جہاز پر سوار ہوکر جانا پڑتا ہے۔ وہ لاہور کا رہنے والا ایک گوالا تھا غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا آمدنی اتنی تھی نہیں جس سے وہ یہ سفر کرسکتا لیکن اسے بس ایک ہی دھن لگی رہتی تھی اور ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ چنانچہ کسی نہ کسی طرح وہ کراچی پہنچ گیا اب یہاں سے آگے جانے کا مسئلہ تھا وہ پریشان تھا کہ آگے کیسے جاسکتا ہوں؟ اس نے دیکھا کہ بعض لوگ مخصوص لباس پہن کر جہاز میں سامان لاد رہے ہیں تو اس نے ان میں سے ایک کی منت کی کہ میں وہاں جانا چاہتا ہوں آپ مہربانی کریں اپنی جگہ مجھے کام کرنے دیں اور اپنی وردی مجھے دے دیں میں یہ وردی آپ کو واپس کردوں گا وہ بندہ مان گیا اور اپنا لباس اسے دے دیا اب وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح سامان اٹھا اٹھا کر جہاز میں لادنے لگااس نے کچھ سامان جہاز میں...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں